| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اس سفر میں حسن اتفاق سے حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہو گئی جو حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے ہیں۔ یہ ملک شام سے تجارت کا سامان لے کر آ رہے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطور نذرانہ کے پیش کیے جن کو تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قبول فرما لیا۔(1)(مدارج النبوۃ ج2 ص63)
شہنشاہ ِرسالت مدینہ میں
حضورِاکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر چونکہ مدینہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا چرچا تھا ۔اس لئے اہل مدینہ آپ کے دیدار کے لئے انتہائی مشتاق و بے قرار تھے۔ روزانہ صبح سے نکل نکل کر شہر کے باہر سراپا انتظار بن کر استقبال کے لئے تیار رہتے تھے اورجب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہل مدینہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے کہ ناگہاں ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری مدینہ کے قریب آن پہنچی ہے۔ اس نے بہ آواز بلند پکارا کہ اے مدینہ والو!لو تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۶۳مختصراًودلائل النبوۃ للبیہقی، باب من استقبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،ج۲،ص۴۹۸