| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
فرمان کی تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ اے سراقہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہو کہ اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے حمد ہے جس نے ان کنگنوں کو بادشاہ فارس کسریٰ سے چھین کر سراقہ بدوی کو پہنا دیا۔ (1)حضرت سراقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے 24ھ میں وفات پائی۔جب کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تخت خلافت پر رونق افروز تھے۔(زرقانی علی المواہب ج1 ص246 و ص348)
بریدہ اسلمی کا جھنڈا
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ''بریدہ اسلمی'' قبیلۂ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے آئے کہ قریش سے ایک سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ مگر جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداﷲ ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔جمال و جلال نبوت کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں آگئے اور کمال عقیدت سے یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے،یہ کہا اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر اپنے نیزہ پر باندھ لیا اور حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علمبردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔ پھر دریافت کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مدینہ میں کہاں اتریں گے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے ۔یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے۔(2) (مدارج النبوۃ ج2 ص62)
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، قصۃ سراقۃ، ج۲،ص۱۴۵ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۶۲