تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرتا تو سراقہ اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرف نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے ہوئے سراقہ نے کچھ سامان سفر بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور نذرانہ کے پیش کیا مگر آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا۔(1)
(بخاری باب ہجرۃ النبی ج1 ص554 و زرقانی ج1 ص346 و مدارج النبوۃ ج2 ص62)
سراقہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوئے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل پر بیٹھ گیا۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ اور جنگ طائف و حنین سے فارغ ہو کر ''جعرانہ'' میں پڑاؤ کیا تو سراقہ اسی پروانۂ امن کو لے کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو گئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔(2) (دلائل النبوۃ ج2 ص15 و مدارج النبوۃ ج2 ص62)
واضح رہے کہ یہ وہی سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے علم غیب سے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اے سراقہ!تیرا کیا حال ہو گا جب تجھ کو ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے دونوں کنگن پہنائے جائیں گے؟ اس ارشاد کے برسوں بعد جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن دربار خلافت میں لائے گئے تو امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے