Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
164 - 872
تعالیٰ عنہ کچھ رات گئے چراگاہ سے بکریاں لے کر غار کے پاس آ جاتے اور ان بکریوں کا دودھ دونوں عالم کے تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے یار غار پی لیتے تھے۔(1)    (زرقانی علی المواہب ج1 ص339)

حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو غار ثور میں تشریف فرما ہو گئے۔ اُدھر کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرنے والے کفار جب صبح کو مکان میں داخل ہوئے تو بستر نبوت پر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظالموں نے تھوڑی دیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ گچھ کرکے آپ کو چھوڑ دیا۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش و جستجو میں مکہ اور اطراف و جوانب کا چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار ثور تک پہنچ گئے مگر غار کے منہ پر اس وقت خداوندی حفاظت کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ یعنی غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار قریش آپس میں کہنے لگے کہ اس غارمیں کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی نہ کبوتری یہاں انڈے دیتی۔ کفار کی آہٹ پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کچھ گھبرائے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اب ہمارے دشمن اس قدر قریب آ گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا     مت گھبراؤ !خدا ہمارے ساتھ ہے۔
اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر سکون و اطمینان کا ایسا سکینہ اُتار دیا کہ وہ بالکل ہی بے خوف ہو گئے(2)۔ حضرت ابوبکر صدیق
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ والزرقانی،باب ہجرۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،ج۲،ص۱۲۷

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ والزرقانی ،باب ہجرۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ ، 

ج۲، ص۱۲۳ملخصاًومدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۵۹
Flag Counter