Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
165 - 872
رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جن کو دربار نبوت کے مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کیا خوب کہا ہے کہ     ؎
وَثَانِیُ اثْنَیْنِ فِی الْغَارِ الْمُنِیْفِ وَقَدْ		طَافَ الْعَدُوُّ بِہٖ اِذْ صَاعَدَ الْجَبَلَا
    اور دومیں کے دوسرے (ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ)جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا۔
وَکَانَ حِبَّ رَسُوْلِ اﷲِ قَدْ عَلِمُوْا		مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ یَعْدِلْ بِہٖ بَدَلَا
    اور وہ (ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب تھے۔ تمام مخلوق اس بات کو جانتی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی کو بھی ان کے برابر نہیں ٹھہرایا ہے۔ (1)(زرقانی علی المواہب ج 1ص 337)

    بہر حال چوتھے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یکم ربیع الاول دوشنبہ کے دن غار ثور سے باہر تشریف لائے۔ عبداﷲ بن اریقط جس کو رہنمائی کے لئے کرایہ پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نوکر رکھ لیا تھا وہ قرارداد کے مطابق دو اونٹنیاں لے کر غار ثور پر حاضر تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک اونٹنی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیٹھے اور عبداﷲ بن اُریقط آگے آگے پیدل چلنے لگا اور عام راستہ سے ہٹ کر ساحل سمندر کے غیر معروف راستوں سے سفر شروع کر دیا۔(2)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، باب ہجرۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، 

ج۲،ص۱۲۴

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، باب ہجرۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، 

ج۲، ص۱۲۸،۱۲۹ملخصاً
Flag Counter