حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی گودمیں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا۔ سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یارغار کے پاؤں میں کاٹا مگر حضرت صدیق جاں نثار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمتِعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خوابِ راحت میں خلل نہ پڑ جائے مگر درد کی شدت سے یارغار کے آنسوؤں کی دھار کے چند قطرات سرور کائنات کے رخسار پرنثار ہو گئے۔ جس سے رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمبیدار ہو گئے اور اپنے یارِ غار کو روتا دیکھ کر بے قرار ہو گئے پوچھا ابوبکر! کیا ہوا؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیاجس سے فوراً ہی سارا درد جاتا رہا۔ حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تین رات اس غار میں رونق افروز رہے۔(1)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جوان فرزند حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روزانہ رات کو غار کے منہ پر سوتے اور صبح سویرے ہی مکہ چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا تدبیریں کر رہے ہیں؟ جو کچھ خبر ملتی شام کو آکر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کردیتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ