Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
162 - 872
حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بستر نبوت پر جان ولایت کو سلا کر ایک مٹھی خاک ہاتھ میں لی اور سورهٔ یس ۤ کی ابتدائی آیتوں کو تلاوت فرماتے ہوئے نبوت خانہ سے باہر تشریف لائے اور محاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔نہ کسی کو نظر آئے نہ کسی کو کچھ خبر ہوئی۔ ایک دوسرا شخص جو اس مجمع میں موجود نہ تھااس نے ان لوگوں کو خبر دی کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تو یہاں سے نکل گئے اور چلتے وقت تمہارے سروں پر خاک ڈال گئے ہیں۔ چنانچہ ان کور بختوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو واقعی ان کے سروں پر خاک اور دھول پڑی ہوئی تھی۔(1)(مدارج النبوۃ ج2 ص57)

رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام ''حزورہ'' کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ''کعبہ'' کو دیکھا اور فرمایا کہ اے شہر مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہی قرار داد ہو چکی تھی۔ وہ بھی اسی جگہ آ گئے اور اس خیال سے کہ کفار مکہ ہمارے قدموں کے نشان سے ہمارا راستہ پہچان کر ہمارا پیچھا نہ کریں پھر یہ بھی دیکھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے نازک زخمی ہو گئے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیااور اس طرح خاردار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات ''غارِ ثور'' پہنچے ۔(2)    (مدارج النبوۃ ج2 ص58)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۵۷

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۵۷وشرح الزرقانی علی المواھب، 

باب ہجرۃ المصطفٰی...الخ،ج۲،ص۱۰۸
Flag Counter