| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جانے کے بعد تم قریش کی تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر مدینہ چلے آنا۔ یہ بڑا ہی خوفناک اور بڑے سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار ِمکہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں مگر حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ تم قریش کی ساری امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آنا حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو یقین کامل تھا کہ میں زندہ رہوں گا اور مدینہ پہنچوں گا اس لئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر جو آج کانٹوں کا بچھونا تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر پر صبح تک آرام کے ساتھ میٹھی میٹھی نیند سوتے رہے۔ اپنے اسی کارنامے پر فخر کرتے ہوئے شیر خدا نے اپنے اشعار میں فرمایا کہ
وَقَیْتُ بِنَفْسِیْ خَیْرَمَنْ وَطِیئَ الثَّریٰ وَمَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ وَبِالْحَجَرِ
میں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو زمین پر چلنے والوں اور خانہ کعبہ و حطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر اور بلند مرتبہ ہیں۔
رَسُوْلُ اِلٰہٍ خَافَ اَنْ یَّمْکُرُوْابِہٖ فَنَجَّاہُ ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰہُ مِنَ الْمَکْرِ
رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کفار مکہ ان کے ساتھ خفیہ چال چل جائیں گے مگر خداوند مہربان نے ان کو کافروں کی خفیہ تدبیر سے بچا لیا۔(1) (زرقانی علی المواہب ج1 ص322)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ،قسم دوم ، با ب چہارم، ج۲،ص۵۸وشرح الزرقانی علی المواھب، باب ہجرۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ،ج۲،ص۹۵والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ہجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۹۴