| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا ۔یہ وہ قابل فخر شرف ہے جس کی بنا پر ان کو ''ذات النطاقین''(دو پٹکے والی) کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کافر کو جس کا نام ''عبداﷲ بن اُرَیْقَطْ'' تھا جو راستوں کا ماہر تھا راہ نمائی کے لئے اُجرت پر نوکر رکھااور ان دونوں اونٹنیوں کو اس کے سپرد کرکے فرمایا کہ تین راتوں کے بعد وہ ان دونوں اونٹنیوں کو لے کر ''غارثور'' کے پاس آ جائے۔ یہ سارا نظام کر لینے کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لائے۔(1) (بخاری ج1 ص553 تا 554 باب ہجرت النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)کاشانۂ نبوت کا محاصرہ
کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کو گھیر لیااور انتظار کرنے لگے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سو جائیں تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے۔ اس وقت گھر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس صرف علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ اگرچہ رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھتے تھے۔چنانچہ اس وقت بھی بہت سی امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہو اور میرے چلے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ہجرۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ، الحدیث: ۳۹۰۵،ج۲،ص۵۹۲والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام،ہجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۹۲۔۱۹۳