ہاتھ پاؤں باندھ دو اور ایک سوراخ سے کھانا پانی ان کو دے دیا کرو۔ شیخ نجدی (شیطان) نے کہا کہ یہ رائے اچھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم لوگوں نے ان کو کسی مکان میں قید کر دیا تو یقینا ان کے جاں نثار اصحاب کو اس کی خبر لگ جائے گی اور وہ اپنی جان پر کھیل کر ان کو قید سے چھڑا لیں گے۔
ابو الاسود ربیعہ بن عمر و عامری نے یہ مشورہ دیا کہ ان کو مکہ سے نکال دو تاکہ یہ کسی دوسرے شہر میں جا کر رہیں۔ اس طرح ہم کو ان کے قرآن پڑھنے اور ان کی تبلیغ اسلام سے نجات مل جائے گی۔ یہ سن کر شیخ نجدی نے بگڑ کر کہا کہ تمہاری اس رائے پر لعنت، کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)کے کلام میں کتنی مٹھاس اور تاثیر و دل کشی ہے؟ خدا کی قسم! اگر تم لوگ ان کو شہر بدر کرکے چھوڑ دو گے تو یہ پورے ملک عرب میں لوگوں کو قرآن سنا سنا کر تمام قبائل عرب کو اپنا تابع فرمان بنا لیں گے اور پھر اپنے ساتھ ایک عظیم لشکر کو لے کر تم پر ایسی یلغار کر دیں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجز و لاچار ہو جاؤ گے اور پھر بجز اس کے کہ تم ان کے غلام بن کر رہو کچھ بنائے نہ بنے گی اس لئے ان کو جلا وطن کرنے کی تو بات ہی مت کرو۔
ابو جہل بولا کہ صاحبو ! میرے ذہن میں ایک رائے ہے جو اب تک کسی کو نہیں سوجھی یہ سن کر سب کے کان کھڑے ہو گئے اور سب نے بڑے اشتیاق کے ساتھ پوچھا کہ کہیے وہ کیا ہے؟ تو ابو جہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک مشہور بہادر تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو اور سب یکبارگی حملہ کرکے محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)کو قتل کر ڈالیں۔ اس تدبیر سے خون کرنے کا جرم تمام قبیلوں کے سر پر رہے گا۔ ظاہر ہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کا بدلہ لینے کے لئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی