Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
156 - 872
حکم نہیں ملا تھا اس لئے آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ ہی میں مقیم رہے اور حضرتِ ابوبکر صدیق اور حضرتِ علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بھی آپ نے روک لیا تھا۔ لہٰذا یہ دونوں شمع نبوت کے پروانے بھی آپ ہی کے ساتھ مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
کفار کانفرنس
جب مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ لیا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے اور مدینہ جانے والے مسلمانوں کو انصار نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو کفار مکہ کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)بھی مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی نہ کر دیں۔ چنانچہ اس خطرہ کا دروازہ بند کرنے کے لئے کفار مکہ نے اپنے دارالندوہ (پنچائت گھر) میں ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد کی ۔اور یہ کفار مکہ کا ایسا زبردست نمائندہ اجتماع تھا کہ مکہ کا کوئی بھی ایسا دانشور اور با اثر شخص نہ تھا جو اس کانفرنس میں شریک نہ ہوا ہو۔ خصوصیت کے ساتھ ابو سفیان،ابو جہل، عتبہ، جبیر بن مطعم، نضربن حارث، ابو البختری، زمعہ بن اسود،حکیم بن حزام، اُمیہ بن خلف وغیرہ وغیرہ تمام سردارانِ قریش اس مجلس میں موجود تھے۔ شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بزرگ شیخ کی صورت میں آ گیا۔ قریش کے سرداروں نے نام و نسب پوچھا تو بولا کہ میں ''شیخ نجد''ہوں اس لئے اس کانفرنس میں آگیا ہوں کہ میں تمہارے معاملہ میں اپنی رائے بھی پیش کر دوں۔ یہ سن کر قریش کے سرداروں نے ابلیس کو بھی اپنی کانفرنس میں شریک کر لیااور کانفرنس کی کارروائی شروع ہو گئی۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ پیش ہوا تو ابو البختری نے یہ رائے دی کہ ان کو کسی کوٹھری میں بند کرکے ان کے
Flag Counter