| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
طاقت نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا یقینا وہ خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم لوگ مل جل کرآسانی کے ساتھ خون بہا کی رقم ادا کر دیں گے۔ ابو جہل کی یہ خونی تجویز سن کر شیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا کہ بے شک یہ تدبیر بالکل درست ہے۔ اس کے سوا اور کوئی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ تمام شرکاء کانفرنس نے اتفاق رائے سے اس تجویز کو پاس کر دیا اور مجلس شوریٰ برخاست ہو گئی اور ہر شخص یہ خوفناک عزم لے کر اپنے اپنے گھر چلا گیا۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثْبِتُوۡکَ اَوْ یَقْتُلُوۡکَ اَوْ یُخْرِجُوۡکَ ؕ وَیَمْکُرُوۡنَ وَیَمْکُرُ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾ (1)
(اے محبوب یاد کیجیے)جس وقت کفار آپ کے بارے میں خفیہ تدبیر کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا شہر بدر کر دیں یہ لوگ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور اﷲ خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اﷲ کی پوشیدہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کیا تھی؟ اگلے صفحہ پر اس کا جلوہ دیکھیے کہ کس طرح اس نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور کفار کی ساری اسکیم کو کس طرح اس قادر قیوم نے تہس نہس فرما دیا۔ (2) (ابن ِہشام) ہجرتِ رسول کا واقعہ جب کفار حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل پر اتفاق کرکے کانفرنس ختم کر چکے
1۔۔۔۔۔۔پ۹،الانفال :۳۰ 2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،ہجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم،ص۱۹۱۔۱۹۳