| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
انصار کی بیعت کا حال معلوم ہوا تو قریش غیظ و غضب میں آپے سے باہر ہو گئے اور بیعت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے تعاقب کیا مگر قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکڑ سکے۔ قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ مکہ لائے اور ان کو قید کر دیا مگر جب جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کو پتہ چلا تو ان دونوں نے قریش کو سمجھایا کہ خدا کے لئے سعد بن عبادہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)کو فوراً چھوڑ دو ورنہ تمہاری ملک ِشام کی تجارت خطرہ میں پڑجائے گی۔ یہ سن کر قریش نے حضرت سعد بن عبادہ کو قید سے رہاکردیااور وہ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔ (1) (سیرتِ ابن ہشام ج4ص 449 تا 450)
ہجرت مدینہ
مدینہ منورہ میں جب اسلام اور مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو عام اجازت دے دی کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں ۔چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار قریش کو پتہ چلا تو انہوں نے روک ٹوک شروع کر دی مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھایہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابہ کرام مدینہ منورہ چلے گئے۔ صرف وہی حضرات مکہ میں رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا اپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ ابھی تک خدا کی طرف سے ہجرت کا
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،اسماء النقباء الاثنی عشر...الخ،ص۱۷۸۔۱۷۹