یا حضرت عباس بن نضلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرے بھائیو! تمہیں یہ بھی خبر ہے؟ کہ تم لوگ کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ خوب سمجھ لو کہ یہ عرب و عجم کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ انصار نے طیش میں آ کر نہایت ہی پرجوش لہجے میں کہا کہ ہاں! ہاں!ہم لوگ اسی پر بیعت کررہے ہیں۔بیعت ہو جانے کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جماعت میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب(سردار)مقرر فرمایا ۔ان میں نو آدمی قبیلہ خزرج کے اور تین اشخاص قبیلۂ اوس کے تھے جن کے مبارک نام یہ ہیں۔
(۱)حضرت ابوامامہ اسعدبن زرارہ(۲)حضرت سعدبن ربیع(۳)حضرت عبداﷲ بن رواحہ(۴) حضرت رافع بن مالک (۵) حضرت براء بن معرور (۶) حضرت عبداﷲ بن عمرو (۷)حضرت سعد بن عبادہ(۸)حضرت منذر بن عمر (۹)حضرت عبادہ بن ثابت ۔یہ نو آدمی قبیلہ خزرج کے ہیں۔ (۱۰)حضرت اُسید بن حضیر (۱۱)حضرت سعد بن خیثمہ(۱۲)حضرت ابو الہیثم بن تیہان۔ یہ تین شخص قبیلہ اوس کے ہیں۔ (1) (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین) (زرقانی علی المواہب ج۱ص۳۱۷)
اس کے بعد یہ تمام حضرات اپنے اپنے ڈیروں پر چلے گئے۔ صبح کے وقت جب قریش کو اس کی اطلاع پہنچی تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ان لوگوں نے ڈانٹ کر مدینہ والوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بیعت کی ہے؟ انصار کے کچھ ساتھیوں نے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے اپنی لاعلمی ظاہر کی ۔یہ سن کر قریش واپس چلے گئے مگر جب تفتیش و تحقیقات کے بعد کچھ