Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
142 - 872
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر جس جاں نثاری کے ساتھ آپ کی نصرت و دستگیری کی اور آپ کے دشمنوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جس طرح آلام و مصائب کا مقابلہ کیا اس کو بھلا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس طرح بھول سکتے تھے۔
ابو طالب کا خاتمہ
جب ابو طالب مرض الموت میں مبتلا ہو گئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے چچا! آپ کلمہ پڑھ لیجیے۔یہ وہ کلمہ ہے کہ اس کے سبب سے میں خدا کے دربار میں آپ کی مغفرت کے لئے اصرار کروں گا۔ اس وقت ابو جہل اور عبداﷲ بن ابی امیہ ابو طالب کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں نے ابو طالب سے کہا کہ اے ابو طالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کریں گے؟ اور یہ دونوں برابر ابو طالب سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھابلکہ ان کی زندگی کا آخری قول یہ رہا کہ ''میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔'' یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اﷲ تعالیٰ مجھے منع نہ فرمائے گا۔اس کے بعد یہ آیت نازل ہو گئی کہ
مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾ (1)
    یعنی نبی اور مومنین کے لئے یہ جائز ہی نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے
1۔۔۔۔۔۔پ۱۱،التوبۃ:۱۱۳
Flag Counter