Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
143 - 872
مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ جب انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ مشرکین جہنمی ہیں۔(1) (بخاری ج1 ص548 باب قصہ ابی طالب)
حضرت بی بی خدیجہ کی وفات
حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر ابھی ابو طالب کے انتقال کا زخم تازہ ہی تھا کہ ابو طالب کی وفات کے تین دن یا پانچ دن کے بعد حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ مکہ میں ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ جس ہستی نے رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا وہ حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی ذات گرامی تھی۔ جس وقت دنیا میں کوئی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مخلص مشیر اور غمخوار نہیں تھا حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاہی تھیں کہ ہر پریشانی کے موقع پر پوری جاں نثاری کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی غمخواری اور دلداری کرتی رہتی تھیں اس لئے ابو طالب اور حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا دونوں کی وفات سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مددگار اور غمگسار دونوں ہی دنیا سے اٹھ گئے جس سے آپ کے قلب نازک پر اتنا عظیم صدمہ گزرا کہ آپ نے اس سال کا نام ''عام الحزن''(غم کا سال) رکھ دیا۔

    حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے رمضان  10 ؁نبوی میں وفات پائی۔ بوقت وفات پینسٹھ برس کی عمر تھی۔ مقام حجون (قبرستان جنت المعلی) میں مدفون ہوئیں۔ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اترے اور اپنے مقدس
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب قصۃ ابی طالب،الحدیث:۳۸۸۴،ج۲، ص۵۸۳وشرح الزرقانی علی المواھب، وفاۃ خدیجۃ و ابی طالب، ج۲، ص۳۸، ۴۲ ملخصاً
Flag Counter