Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
141 - 872
اے لوگو! میرے بھتیجے محمد ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)کہتے ہیں کہ اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھا ڈالا ہے اور صرف جہاں جہاں خدا کا نام لکھا ہوا تھا اس کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے جب تو اس کو چاک کرکے پھینک دو۔ اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمہارے حوالے کردوں گا۔یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی بجز اﷲ تعالیٰ کے نام کے پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ مطعم بن عدی نے سب کے سامنے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اور پھر قریش کے چند بہادر باوجودیکہ یہ سب کے سب اس وقت کفر کی حالت میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندان بنوہاشم کے ایک ایک آدمی کو وہاں سے نکال لائے اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔ یہ واقعہ   10 ؁ نبوی کا ہے۔ منصور بن عکرمہ جس نے اس دستاویز کو لکھا تھا اس پر یہ قہر الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کا ہاتھ شل ہو کر سوکھ گیا۔(1)(مدارج النبوۃ ج2ص42 وغیرہ)
غم کا سال  10 ؁نبوی
حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ''شعب ابی طالب'' سے نکل کر اپنے گھر میں تشریف لائے اور چند ہی روز کفار قریش کے ظلم و ستم سے کچھ امان ملی تھی کہ ابو طالب بیمار ہو گئے اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ مہینے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

ابو طالب کی وفات حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھاکیونکہ بچپن سے جس طرح پیارو محبت کے ساتھ ابو طالب نے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم دوم ، باب سوم، ج۲،ص۴۶مختصرًا
Flag Counter