Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
140 - 872
سے تڑپ تڑپ کر دن رات رویا کرتے تھے ۔سنگدل اور ظالم کافروں نے ہر طرف پہرہ بٹھا دیا تھاکہ کہیں سے بھی گھاٹی کے اندر دانہ پانی نہ جانے پائے۔ (1)              (زرقانی علی المواہب ج1 ص278)

مسلسل تین سال تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم ان ہوش ربا مصائب کو جھیلتے رہے یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دلوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پررحم آگیااوران لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی۔ چنانچہ ہشام بن عمرو عامری، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری، زمعہ بن الاسودوغیرہ یہ سب مل کر ایک ساتھ حرم کعبہ میں گئے اور زہیر نے جو عبدالمطلب کے نواسے تھے کفار قریش کو مخاطب کرکے اپنی پرجوش تقریر میں یہ کہا کہ اے لوگو! یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم کے بچے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر بلبلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم! جب تک اس وحشیانہ معاہدہ کی دستاویز پھاڑ کر پاؤں سے نہ روند دی جائے گی میں ہر گز ہر گز چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ تقریر سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ خبردار! ہرگز ہرگز تم اس معاہدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ زمعہ نے ابو جہل کو للکارا اور اس زور سے ڈانٹا کہ ابو جہل کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی خم ٹھونک کر ابو جہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابو جہل! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب ہم اس کے پابند ہیں۔

اسی مجمع میں ایک طرف ابو طالب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ ، ھجرتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۱۲۶
Flag Counter