Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
137 - 872
صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت کو لے کر دو قطاروں میں روانہ ہوئے۔ ایک صف کے آگے آگے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے آگے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ اس شان سے مسجد حرام میں داخل ہوئے اور نماز ادا کی اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرم کعبہ میں مشرکین کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی ہر طرف سے کفار دوڑ پڑے اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مارنے لگے اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی ان لوگوں سے لڑنے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ماموں ابو جہل آ گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوگئے ہیں اس لئے لوگ برہم ہو کر ان پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ یہ سن کر ابو جہل نے حطیم کعبہ میں کھڑے ہو کر اپنی آستین سے اشارہ کرکے اعلان کر دیاکہ میں نے اپنے بھانجے عمر کو پناہ دی۔ ابو جہل کا یہ اعلان سن کر سب لوگ ہٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں ہمیشہ کفار کو مارتا اور ان کی مار کھاتا رہایہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے اسلام کو غالب فرما دیا۔(1) (زرقانی علی المواہب ج1 ص272)

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مسلمان ہونے کا ایک سبب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خود حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں کفر کی حالت میں قریش کے بتوں کے پاس حاضر تھا اتنے میں ایک شخص گائے کا ایک بچھڑا لے کر آیا اور اس کو بتوں کے نام پر ذبح کیا۔ پھر بڑے زور سے چیخ مار کر کسی نے یہ کہا کہ
''یَاجَلِیْحُ اَمْرٌ نَّجِیْحٌ رَجُلٌ فَصِیْحٌ
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،اسلام عمرالفاروق رضی اللہ عنہ ، ج۲، ص۵۔۱۰والمواہب اللدنیۃ ، ھجرتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۱۲۵،۱۲۶ملتقطاً
Flag Counter