Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
136 - 872
جب اس آیت پر پہنچے کہ
اٰمِنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِہٖ (1)
تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اختیار پکار اٹھے کہ
''اَشْھَدُ اَنْ لاَّۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ ''
یہ وہ وقت تھا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں مقیم تھے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرت ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند پایا، کنڈی بجائی، اندر کے لوگوں نے دروازہ کی جھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ننگی تلوار لئے کھڑے تھے۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اندر قدم رکھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود آگے بڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو پکڑا اور فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے! تو مسلمان ہو جا آخر تو  کب تک مجھ سے لڑتا رہے گا ؟حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بہ آواز بلند کلمہ پڑھا ۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مارے خوشی کے نعرہ تکبیر بلند فرمایا اور تمام حاضرین نے اس زور سے اﷲ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ چھپ چھپ کر خدا کی عبادت کرنے کے کیا معنی؟ اٹھئے ہم کعبہ میں چل کر علی الاعلان خدا کی عبادت کریں گے اور خدا کی قسم !میں کفر کی حالت میں جن جن مجلسوں میں بیٹھ کر اسلام کی مخالفت کرتا رہا ہوں اب ان تمام مجالس میں اپنے اسلام کا اعلان کروں گا۔ پھر حضور
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اللہ اوراس کے رسول پرایمان لاؤ۔ (پ۲۷،الحدید:۷)
Flag Counter