Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
138 - 872
یَقُوْلُ لَآ اِلٰہَ اِلَا اللہُ۔''
یہ آواز سن کر سب لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن میں نے یہ عزم کر لیا کہ میں اس آواز دینے والے کی تحقیق کئے بغیر ہر گز ہر گز یہاں سے نہیں ٹلوں گا۔ اس کے بعد پھر یہی آواز آئی کہ
یَاجَلِیْحُ اَمْرٌ نَّجِیْحٌ رَجُلٌ فَصِیْحٌ یَقُوْلُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ
 یعنی اے کھلی ہوئی دشمنی کرنے والے! ایک کامیابی کی چیز ہے کہ ایک فصاحت والا آدمی
''لَا اِلٰہ َالِاَّ اللہُ''
کہہ رہا ہے حالانکہ بتوں کے آس پاس میرے سوا دوسرا کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کے فوراً ہی بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا ۔ اس واقعہ سے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بے حد متاثر تھے۔ اس لئے ان کے اسلام لانے کے اسباب میں اس واقعہ کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور دخل ہے۔ (1)

(بخاری ج1 ص546 و زرقانی ج1 ص276 باب اسلام عمر)

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جب کفار مکہ نے بہت زیادہ ستایاتو عاص بن وائل سہمی نے بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی پناہ میں لے لیا جو زمانۂ جاہلیت میں آپ کا حلیف تھا اس لئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کفار کی مار دھاڑ سے بچ گئے۔ (2)

             (بخاری باب اسلام عمر ج 1 ص545)
شعب ابی طالب    7 ؁نبوی
اعلان نبوت کے ساتویں سال   7  ؁نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب اسلام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ،

الحدیث:۳۸۶۶، ج۲،ص۵۷۸

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب اسلام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ،الحدیث:۳۸۶۴، ج۲،ص۵۷۸ملخصاً
Flag Counter