Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
117 - 872
(۹) عاص بن وائل(۱۰) نضربن حارث(۱۱)منبہ بن الحجاج(۱۲) زہیر بن ابی امیہ(۱۳)سائب بن صیفی(۱۴)عدی بن حمرا (۱۵)اسود بن عبدالاسد (۱۶) عاص بن سعید بن العاص(۱۷)عاص بن ہاشم(۱۸)عقبہ بن ابی معیط (۱۹)حکم بن ابی العاص۔ یہ سب کے سب حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پڑوسی تھے اور ان میں سے اکثر بہت ہی مالدار اور صاحب اقتدار تھے اور دن رات سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی میں مصروف کار رہتے تھے۔ (نعوذباللہ من ذالک)
مسلمانوں پر مظالم
حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکہ کی زمین بلبلا اُٹھی۔ یہ آسان تھا کہ کفار مکہ ان مسلمانوں کو دم زدن میں قتل کر ڈالتے مگر اس سے ان کافروں کے جوش انتقام کا نشہ نہیں اتر سکتا تھا کیونکہ کفار اس بات میں اپنی شان سمجھتے تھے کہ ان مسلمانوں کو اتنا ستاؤ کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر پھر شرک و بت پرستی کرنے لگیں۔ اس لئے قتل کر دینے کی بجائے کفار مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی سزاؤں اور ایذا رسانیوں کے ساتھ ستاتے تھے۔ مگر خدا کی قسم! شراب توحید کے ان مستوں نے اپنے استقلال و استقامت کا وہ منظر پیش کر دیا کہ پہاڑوں کی چوٹیاں سر اٹھا اٹھا کر حیرت کے ساتھ ان بلاکشانِ اسلام کے جذبۂ استقامت کا نظارہ کرتی رہیں۔ سنگدل،بے رحم اور درندہ صفت کافروں نے ان غریب و بیکس مسلمانوں پر جبرو اکراہ اور ظلم و ستم کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر ایک مسلمان کے پائے استقامت میں بھی ذرہ برابر تزلزل نہیں پیدا ہوااور ایک مسلمان کا بچہ بھی اسلام سے منہ پھیر کر کافر و مرتد نہیں ہوا۔
Flag Counter