Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
118 - 872
کفار مکہ نے ان غرباء مسلمین پر جو روجفاکاری کے بے پناہ اندوہناک مظالم ڈھائے اور ایسے ایسے روح فرساء اور جاں سوز عذابوں میں مبتلا کیا کہ اگر ان مسلمانوں کی جگہ پہاڑ بھی ہوتا تو شاید ڈگمگانے لگتا۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور کی طرح گرم ہو جاتے۔ ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کرکے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں لوہے کو آگ میں گرم کرکے ان سے ان مسلمانوں کے جسموں کو داغتے، پانی میں اس قدرڈبکیاں دیتے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا ۔چٹائیوں میں ان مسلمانوں کو لپیٹ کر ان کی ناکوں میں دھواں دیتے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا اور وہ کرب و بے چینی سے بدحواس ہو جاتے۔

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اس زمانے میں اسلام لائے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں مقیم تھے اور صرف چند ہی آدمی مسلمان ہوئے تھے۔ قریش نے ان کو بے حد ستایا۔ یہاں تک کہ کوئلے کے انگاروں پر ان کو چت لٹایا اور ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی اور رطوبت سے کوئلے بجھ گئے ۔برسوں کے بعد جب حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ واقعہ حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کیا تو اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی ۔پوری پیٹھ پر سفید سفید داغ دھبے پڑے ہوئے تھے ۔ اس عبرت ناک منظر کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل بھر آیا اور وہ رو پڑے۔(1)(طبقات ابن سعد ج 3 تذکرہ خباب)
1۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبری لابن سعد ، خباب بن الارت رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ج۳،ص۱۲۲،۱۲۳
Flag Counter