Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
116 - 872
رہی اور کفار ٹھٹھا مار مار کر ہنستے رہے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر گر گر پڑتے رہے آخر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ان دنوں ابھی کمسن لڑکی تھی آئیں اور ان کافروں کو برا بھلا کہتے ہوئے اس اوجھڑی کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوش مبارک سے ہٹا دیا ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر قریش کی اس شرارت سے انتہائی صدمہ گزرا اور نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ یہ دعا مانگی کہ '' اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ '' یعنی اے اللہ! تو قریش کو اپنی گرفت میں پکڑ لے، پھر ابو جہل،عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عمارہ بن ولید کا نام لے کر دعا مانگی کہ الٰہی! تو ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! میں نے ان سب کافروں کو جنگ بدر کے دن دیکھا کہ ان کی لاشیں زمین پر پڑی ہوئی ہیں۔ پھر ان سب کفار کی لاشوں کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیااور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان گڑھے والوں پر خدا کی لعنت ہے۔(1)(بخاری ج1 ص74 باب المرأۃ تطرح الخ)
چند شریر کفار
جو کفار مکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دشمنی اور ایذارسانی میں بہت زیادہ سرگرم تھے۔ ان میں سے چند شریروں کے نام یہ ہیں۔(۱)ابو لہب(۲)ابو جہل(۳)اسود بن عبد یغوث(۴)حارث بن قیس بن عدی (۵)ولید بن مغیرہ(۶)امیہ بن خلف(۷) ابی بن خلف(۸)ابو قیس بن فاکہہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الصلٰوۃ،باب المرأۃتطرح عن المصلی...الخ،الحدیث: 

۵۲۰،ج۱،ص۱۹۳
Flag Counter