قرآن شریف کی تلاوت فرماتے تو یہ کفار قرآن اور قرآن کو لانے والے(جبریل) اور قرآن کو نازل فرمانے والے(اللہ تعالیٰ) کو اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے۔ اور گلی کوچوں میں پہرہ بٹھا دیتے کہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑنے پائے اور تالیاں پیٹ پیٹ کر اور سیٹیاں بجا بجا کر اس قدر شوروغل مچاتے کہ قرآن کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب کہیں کسی عام مجمع میں یا کفار کے میلوں میں قرآن پڑھ کر سناتے یا دعوت ایمان کا وعظ فرماتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چچاابولہب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے چلا چلا کر کہتا جاتا تھا کہ اے لوگو! یہ میرا بھتیجا جھوٹا ہے،یہ دیوانہ ہو گیا ہے،تم لوگ اس کی کوئی بات نہ سنو۔(معاذاللہ)
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''ذوالمجاز'' کے بازار میں دعوت اسلام کا وعظ فرمانے کے لئے تشریف لے گئے اور لوگوں کو کلمۂ حق کی دعوت دی تو ابو جہل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر دھول اڑاتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے لوگو! اس کے فریب میں مت آنا،یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات و عزیٰ کی عبادت چھوڑ دو۔(1) (مسند امام احمد ج4 وغیرہ)
اسی طرح ایک مرتبہ جب کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے عین حالتِ نماز میں ابو جہل نے کہا کہ کوئی ہے؟ جو آل فلاں کے ذبح کیے ہوئے اونٹ کی اوجھڑی لا کر سجدہ کی حالت میں ان کے کندھوں پر رکھ دے۔ یہ سن کر عقبہ بن ابی معیط کافر اٹھااور اس اوجھڑی کو لا کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دوش مبارک پر رکھ دیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سجدہ میں تھے دیر تک اوجھڑی کندھے اور گردن پر پڑی