Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
114 - 872
حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوقتل تونہیں کرسکے لیکن طرح طرح کی تکلیفوں اور ایذا رسانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑنے لگے۔ چنانچہ سب سے پہلے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاہن، ساحر، شاعر، مجنون ہونے کا ہرکوچہ و بازار میں زور دار پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے شریر لڑکوں کا غول لگا دیاجو راستوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر پھبتیاں کستے، گالیاں دیتے اور یہ دیوانہ ہے، یہ دیوانہ ہے ،کا شور مچا مچا کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوپر پتھر پھینکتے۔ کبھی کفار مکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے راستوں میں کانٹے بچھاتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نجاست ڈال دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دھکا دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس اور نازک گردن میں چادر کا پھندہ ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔

روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک دم سنگدل کافر عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گلے میں چادر کا پھندہ ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دم گھٹنے لگا۔ چنانچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے قرار ہو کر دوڑ پڑے اور عقبہ بن ابی معیط کو دھکا دے کر دفع کیا اور یہ کہا کہ کیا تم لوگ ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ ''میرا رب اللہ ہے۔'' اس دھکم دھکا میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفار کو مارا بھی اور کفار کی مار بھی کھائی۔(1) (زرقانی ج1 ص252و بخاری ج1 ص544)

کفار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات اور روحانی تاثیرات و تصرفات کو دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سب سے بڑا جادو گر کہتے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،الاجھاربدعوتہٖ ام اذیتہ،ج۱،ص۴۶۸وصحیح البخاری، کتاب مناقب الانصا ر،باب مالقی النبی واصحابہ...الخ،الحدیث:۳۸۵۶،ج۲،ص۵۷۵
Flag Counter