| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
میری بات کا یقین کر لو گے؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ ہاں! ہاں! ہم یقینا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمیشہ سچا اور امین ہی پایا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الٰہی اتر پڑے گا۔ یہ سن کر تمام قریش جن میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا چچا ابو لہب بھی تھا، سخت ناراض ہو کر سب کے سب چلے گئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں اول فول بکنے لگے۔ (1) (بخاری ج2 ص702 و عامہ تفاسیر)
تیسرا دور
اب وہ وقت آگیا کہ اعلان نبوت کے چوتھے سال سورئہ حجر کی آیت فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(2) نازل فرمائی اور حضرت حق جل شانہ، نے یہ حکم فرمایا کہ اے محبوب! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کو علی الاعلان بیان فرمائیے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علانیہ طور پر دین اسلام کی تبلیغ فرمانے لگے۔ اور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائی بیان فرمانے لگے۔ اور تمام قریش بلکہ تمام اہل مکہ بلکہ پورا عرب آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ایذارسانیوں کا ایک طولانی سلسلہ شروع ہو گیا۔(3)
رحمت عالم پر ظلم و ستم
کفارِ مکہ خاندان بنو ہاشم کے انتقام اور لڑائی بھڑک اٹھنے کے خوف سے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخا ری،کتاب التفسیر،باب ولاتخزنی...الخ،الحدیث:۴۷۷۰،ج۳،ص۲۹۴بتغیر 2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:توعلانیہ کہہ دوجس بات کاتمہیں حکم ہے۔(پ۱۴،النحل:۹۴) 3۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، الاجھار بدعوتہ ،ج۱،ص۴۶۱،۴۶۲