| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
بیوی اور حضرت اسماء بنت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی مسلمان ہو گئیں ۔ان کے علاوہ دوسرے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بھی اسلام لانے کا شرف حاصل کر لیا۔ (1) (زرقانی علی المواہب ج1 ص246) واضح رہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے جو''سابقین اولین ''کے لقب سے سرفراز ہیں ان خوش نصیبوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے دامن اسلام میں آنے والے وہی لوگ ہیں جو فطرۃً نیک طبع اور پہلے ہی سے دین حق کی تلاش میں سرگرداں تھے اور کفار مکہ کے شرک و بت پرستی اور مشرکانہ رسوم جاہلیت سے متنفر اور بیزار تھے۔ چنانچہ نبی برحق کے دامن میں دین حق کی تجلی دیکھتے ہی یہ نیک بخت لوگ پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔
دُوسرا دور
تین برس کی اس خفیہ دعوت اسلام میں مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہوگئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سورۂ ''شعراء'' کی آیت
وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾ (2)
نازل فرمائی اور خداوند تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اے محبوب! آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو خدا سے ڈرائیے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن کوہ صفا کی چوٹی پر چڑھ کر ''یامعشر قریش'' کہہ کر قبیلہ قریش کو پکارا۔جب سب قریش جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہہ دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ،دقائق حقائق بعثتہٖ،ج۱،ص۱۱۵،۱۱۶وشرح الزرقانی علی المواھب، ذکر اول من آمن باللہ ورسولہ،ج۱،ص۴۵۵،۴۶۰ملتقطاًوملخصاً 2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اوراے محبوب اپنے قریب تررشتہ داروں کوڈراؤ۔(پ۱۹، الشعرآء:۲۱۴)