Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
107 - 872
    چوتھا باب

           اعلانِ نبوت سے بیعتِ عقبہ تک
جب حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا چالیسواں سال شروع ہوا تو ناگہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں ایک نیا انقلاب رونما ہو گیاکہ ایک دم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلوت پسند ہو گئے اور اکیلے تنہائی میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرنے کا ذوق و شوق پیدا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر اوقات غور و فکر میں پائے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بیشتر وقت مناظر قدرت کے مشاہدہ اور کائنات فطرت کے مطالعہ میں صرف ہوتا تھا۔ دن رات خالقِ کائنات کی ذات و صفات کے تصور میں مستغرق اور اپنی قوم کے بگڑے ہوئے حالات کے سدھاراور اس کی تدبیروں کے سوچ بچارمیں مصروف رہنے لگے اور ان دنوں میں ایک نئی بات یہ بھی ہو گئی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اچھے اچھے خواب نظر آنے لگے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہر خواب اتنا سچا ہوتا کہ خواب میں جو کچھ دیکھتے اس کی تعبیر صبح صادق کی طرح روشن ہو کر ظاہر ہو جایا کرتی تھی۔ (1)(بخاری ج1 ص2)
غار ِحراء
مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کی دوری پر ''جبل حراء'' نامی پہاڑ کے اُوپر ایک غار(کھوہ)ہے جس کو ''غار حراء'' کہتے ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر کئی کئی دنوں کا کھانا پانی ساتھ لے کر اس غار کے پرسکون ماحول کے اندر خدا کی عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔ جب کھانا پانی ختم ہو جاتا تو کبھی خود گھر پر آکر لے جاتے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی ، باب ۳،الحدیث:۳،ج۱،ص۷مختصراً
Flag Counter