Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
106 - 872
خود خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندان والے ہی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی بھی بتوں کے آگے سر نہیں جھکایا۔

غرض نزول وحی اور اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی اخلاق حسنہ اور محاسن افعال کا مجسمہ اور تمام عیوب و نقائص سے پاک و صاف رہی ۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے بعد آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں نے انتہائی کوشش کی کہ کوئی ادنیٰ سا عیب، یا ذرا سی خلاف تہذیب کوئی بات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کے کسی دور میں بھی مل جائے تو اس کو اچھال کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وقار پر حملہ کرکے لوگوں کی نگاہوں میں آپ کو ذلیل و خوار کر دیں۔ مگر تاریخ  گواہ ہے کہ ہزاروں دشمن سوچتے سوچتے تھک گئے لیکن کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں مل سکا جس سے وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر انگشت نمائی کر سکیں۔ لہٰذا ہر انسان اس حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہے کہ بلا شبہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کردار انسانیت کا ایک ایسا محیرالعقول اور غیر معمولی کردار ہے جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلانِ نبوت کے بعد سعید روحیں آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر تن من دھن کے ساتھ اس طرح آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان ہونے لگیں کہ ان کی جاں نثاریوں کو دیکھ کر شمع کے پروانوں نے جاں نثاری کا سبق سیکھا۔ اور حقیقت شناس لوگ فرط عقیدت سے آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حسن صداقت پر اپنی عقلوں کو قربان کرکے آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اسلامی راستہ پر عاشقانہ اداؤں کے ساتھ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ ؎
چلو وادی عشق میں پا برہنہ!		یہ جنگل وہ ہے جس میں کانٹا نہیں ہے
Flag Counter