Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
103 - 872
اللہ کے غیر (بتوں) کے نام پر ذبح کرتے ہو؟(1)

حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ سے ٹیک لگائے ہوئے کہتے تھے کہ اے جماعت قریش! خدا کی قسم! میرے سوا تم میں سے کوئی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر نہیں ہے۔(2) (بخاری ج۱ باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل ص۵۴۰)
کاروباری مشاغل
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اصل خاندانی پیشہ تجارت تھا اور چونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بچپن ہی میں ابو طالب کے ساتھ کئی بار تجارتی سفر فرما چکے تھے۔ جس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تجارتی لین دین کا کافی تجربہ بھی حاصل ہو چکا تھا۔ اس لئے ذریعہ معاش کے لئے آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا۔ اور تجارت کی غرض سے شام و بُصریٰ اور یمن کا سفر فرمایا۔اورایسی راست بازی اورامانت ودیانت کے ساتھ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکاء کار اور تمام اہل بازار آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''امین'' کے لقب سے پکارنے لگے۔

    ایک کامیاب تاجر کے لئے امانت، سچائی، وعدہ کی پابندی، خوش اخلاقی تجارت کی جان ہیں۔ ان خصوصیات میں مکہ کے تاجر امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو تاریخی شاہکار پیش کیا ہے اس کی مثال تاریخ عالم میں نادرروزگار ہے۔

حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نزول وحی اور
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل، الحدیث:۳۸۲۶،ج۲، ص۵۶۷

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل، الحدیث:۳۸۲۸،ج۲، ص ۵۶۸
Flag Counter