Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
102 - 872
یہ مشرکین کے دین سے متنفر ہو کر دین برحق کی تلاش میں ملک شام چلے گئے تھے۔ وہاں ایک یہودی عالم سے ملے۔ پھر ایک نصرانی پادری سے ملاقات کی اور جب آپ نے یہودی و نصرانی دین کو قبول نہیں کیاتو ان دونوں نے ''دین حنیف''کی طرف آپ کی رہنمائی کی جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا دین تھا اور ان دونوں نے یہ بھی بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے، نہ نصرانی اور وہ ایک خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ یہ سن کر زید بن عمر و بن نفیل ملک شام سے مکہ واپس آگئے۔ اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر مکہ میں بہ آواز بلند یہ کہا کرتے تھے کہ اے لوگو! گواہ رہو کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں۔(۶۵) (سیرت ابن ہشام ج ۱ص۲۲۵)

اعلانِ نبوت سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن عمرو بن نفیل کو بڑا خاص تعلق تھا اورکبھی کبھی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ ایک مرتبہ وحی نازل ہونے سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقام ''بلدح''کی ترائی میں زید بن عمرو بن نفیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے دسترخوان پر کھانا پیش کیا ۔جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا، تو زید بن عمرو بن نفیل کہنے لگے کہ میں بتوں کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا۔ میں صرف وہی ذبیحہ کھاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیاہو۔ پھر قریش کے ذبیحوں کی برائی بیان کرنے لگے اور قریش کو مخاطب کرکے کہنے لگے کہ بکری کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے گھاس اگائی۔ پھر اے قریش! تم بکری کو
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، زید بن عمروبن نفیل،ص۹۳وصحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار، باب حدیث زید بن عمروبن نفیل، الحدیث:۳۸۲۷،ج۲،ص۵۶۷
Flag Counter