اعلانِ نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کچھ خریدوفروخت کا معاملہ کیا۔ کچھ رقم میں نے ادا کر دی، کچھ باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں ابھی ابھی آکر باقی رقم بھی ادا کر دوں گا۔ اتفاق سے تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یاد نہیں آیا۔ تیسرے دن جب میں اس جگہ پہنچا جہاں میں نے آنے کا وعدہ کیا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اسی جگہ منتظر پایا۔ مگر میری اس وعدہ خلافی سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماتھے پر اک ذرا بل نہیں آیا۔ بس صرف اتنا ہی فرمایا کہ تم کہاں تھے؟ میں اس مقام پر تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (1) (سنن ابو داؤد ج۲ ص۳۳۴ باب فی العدۃ ۔مجتبائی)
اسی طرح ایک صحابی حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوکربارگاہِ رسالت میں حاضرہوئے تو لوگ ان کی تعریف کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں انہیں تمہاری نسبت زیادہ جانتا ہوں۔حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں عرض گزار ہوا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر فداہوں آپ نے سچ فرمایا، اعلان نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے شریک تجارت تھے اور کیا ہی اچھے شریک تھے،آپ نے کبھی لڑائی جھگڑا نہیں کیا تھا۔ (2)
(سنن ابوداؤدج۲ص۳۱۷باب کراہیۃالمرا ۔مجتبائی )