عرب میں اگر چہ ہر طرف شرک پھیل گیا تھا اور گھر گھر میں بت پرستی کا چرچا تھا ۔مگر اس ماحول میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو توحید کے پرستار، اورشرک و بت پرستی سے بیزار تھے ۔ انہی خوش نصیبوں میں زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔ یہ علی الاعلان شرک و بت پرستی سے انکار، اور جاہلیت کی مشرکانہ رسموں سے نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ یہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ شرک و بت پرستی کے خلاف اعلان مذمت کی بنا پر ان کا چچا ''خطاب بن نفیل'' ان کو بہت زیادہ تکلیفیں دیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کو مکہ سے شہر بدر کر دیا تھا اور ان کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیتا تھا۔ مگر یہ ہزاروں ایذاؤں کے باوجود عقیدۂ توحید پر پہاڑ کی طر ح ڈٹے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ کے دو شعر بہت مشہور ہیں جن کو یہ مشرکین کے میلو ں او ر مجمعوں میں بہ آو از بلند سنایا کرتے تھے کہ ؎