Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
101 - 872
گہرے دوستوں میں سے تھے ۔کہا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ اپنے تجارتی شرکا کے ساتھ ہمیشہ نہایت ہی صاف ستھرا رہتا تھااورکبھی کوئی جھگڑاپیش نہیں آتاتھا۔(1) (استیعاب ج ۲ ص ۵۳۷)
موحدین عرب سے تعلقات
عرب میں اگر چہ ہر طرف شرک پھیل گیا تھا اور گھر گھر میں بت پرستی کا چرچا تھا ۔مگر اس ماحول میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو توحید کے پرستار، اورشرک و بت پرستی سے بیزار تھے ۔ انہی خوش نصیبوں میں زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔ یہ علی الاعلان شرک و بت پرستی سے انکار، اور جاہلیت کی مشرکانہ رسموں سے نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ یہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ شرک و بت پرستی کے خلاف اعلان مذمت کی بنا پر ان کا چچا ''خطاب بن نفیل'' ان کو بہت زیادہ تکلیفیں دیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کو مکہ سے شہر بدر کر دیا تھا اور ان کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیتا تھا۔ مگر یہ ہزاروں ایذاؤں کے باوجود عقیدۂ توحید پر پہاڑ کی طر ح ڈٹے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ کے دو شعر بہت مشہور ہیں جن کو یہ مشرکین کے میلو ں او ر مجمعوں میں بہ آو از بلند سنایا کرتے تھے کہ ؎
اَرَبًّا وَّاحِدًا  اَمْ        اَلْفَ رَبٍّ		اَدِیْنُ اِذَا تُقُسِّمَتِ الْاُمُوْر،

تَرَکْتُ اللَّاتَ وَالْعُزّیٰ جَمِیْعًا		کَذَالِکَ یَفْعَلُ الرَّجُلُ الْبَصِیْر،
یعنی کیا میں ایک رب کی اطاعت کروں یا ایک ہزار رب کی ؟جب کہ لوگوں کے دینی معاملات تقسیم ہو چکے ہیں۔ میں نے تولات وعزیٰ کو چھوڑ دیا ہے۔ اور ہر بصیرت والا ایسا ہی کریگا۔(2) (سیرت ابن ہشام ج ۱ص۲۲۶)
1۔۔۔۔۔۔الاستیعاب ،حرف القاف،ج۳،ص۳۴۹

2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ، زید بن عمروبن نفیل، ص۹۰
Flag Counter