Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
100 - 872
اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو قریش کے نہایت ہی معزز رئیس تھے اور جن کا ایک خصوصی شرف یہ ہے کہ ان کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی تھی،یہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مخصوص احباب میں خصوصی امتیاز رکھتے تھے۔ (1) حضرت ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں طبابت اور جراہی کا پیشہ کرتے تھے یہ بھی احباب خاص میں سے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد یہ اپنے گاؤں سے مکہ آئے تو کفار قریش کی زبانی یہ پروپیگنڈا سنا کہ محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) مجنون ہو گئے ہیں ۔ پھر یہ دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم راستہ میں تشریف لے جارہے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے لڑکوں کا ایک غول ہے جو شور مچا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ شبہ پیدا ہوا اور پرانی دوستی کی بنا پر ان کو انتہائی رنج و قلق ہوا ۔چنانچہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )میں طبیب ہوں اور جنون کا علاج کر سکتا ہوں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداعزوجل کی حمدو ثنا کے بعد چند جملے ارشاد فرمائے جن کا حضرت ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ فوراً ہی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔(2) (مشکوٰۃ باب علامات النبوۃ ص ۲۲۵ومسلم ج اول ص ۲۸۵ کتاب الجمعہ) 

حضر ت قیس بن سائب مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تجارت کے کاروبار میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شریک کار رہا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے
1۔۔۔۔۔۔اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، حکیم بن حزام ، ج۲،ص۵۸مختصراً

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ، کتاب الفضائل والشمائل ، باب علامات النبوۃ ،الفصل الاول، الحدیث:۵۸۶۰، ج۲، ص۳۷۴
Flag Counter