Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
99 - 872
بنائے ہوئے کعبہ کو ڈھا دیا ۔اور پھر زمانۂ جاہلیت کے نقشہ کے مطابق کعبہ بنا دیا۔ جو آج تک موجود ہے۔

    لیکن حضرت علامہ حلبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی سیرت میں لکھا ہے کہ نئے سرے سے کعبہ کی تعمیر جدید صرف تین ہی مرتبہ ہوئی ہے:

(۱)حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی تعمیر(۲)زمانۂ جاہلیت میں قریش کی عمارت اور ان دونوں تعمیروں میں دو ہزار سات سو پینتیس(۲۷۳۵) برس کا فاصلہ ہے (۳)حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعمیر جو قریش کی تعمیر کے بیاسی سال بعد ہوئی۔

حضرات ملائکہ اور حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کی تعمیرات کے بارے میں علامہ حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ یہ صحیح روایتوں سے ثابت ہی نہیں ہے۔ باقی تعمیروں کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ عمارت میں معمولی ترمیم یا ٹوٹ پھوٹ کی مرمت تھی۔ تعمیر جدید نہیں تھی۔(1) واللہ تعالیٰ اعلم۔

             (حاشیہ بخاری ج۱ ص۲۱۵ باب فضل مکہ)
مخصوص احباب
اعلانِ نبوت سے قبل جو لوگ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مخصوص احباب و رفقاء تھے وہ سب نہایت ہی بلند اخلاق، عالی مرتبہ، ہوش مند اور باوقار لوگ تھے۔ ان میں سب سے زیادہ مقرب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو برسوں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ وطن اور سفر میں رہے۔ اور تجارت نیز دوسرے کاروباری معاملات میں ہمیشہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شریک کا رو راز دار رہے۔ اسی طرح حضرت خدیجہ رضی
1۔۔۔۔۔۔حاشیۃ صحیح البخاری،کتاب المناسک،باب فضل مکۃ وبنیانہا،حاشیۃ:۴،ج۱،ص۲۱۵
Flag Counter