بھی اس مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیں تا کہ وہ بھی اس کی طرح دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر نیکی کی دعوت عام کرنے اور برائیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینےکے عظیم کام میں شریک ہوجائیں اور دعوتِ اسلامی کا یہ عظیم مدنی مقصد ہر وقت ان کی زبانوں پر رہے:
مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنۡ شَآءَ اللہُعَزَّ وَجَلَّ
اس عظیم مدنی مقصد کا عملی نمونہ بننے کے لئے ہمیں مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہو گا۔ اس کی برکت سے ہم صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے گھر والوں کی اصلاح کا بھی ذریعہ بنیں گے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اور پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے حضرت سیِّدُنا عُوَیۡمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لانے کا واقعہ تو جان لیا مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم صحابی ہیں؟ تو جان لیجئےکہ انہیں سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چنانچہ،
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان”مراٰۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح “میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدَرْدَاء کا نام عُوَیۡمِر بِنۡ عَامر ہے انصاری خزرجی ہیں۔دَرْدَاء آپ کی بیٹی کا نام ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑے عالم فقیہ تھے۔٣۲ھ میں دمشق میں وفات پائی۔(مراۃ المناجیح، كتاب المناقب،ج8، ص548)