حضرت عُوَیۡمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے جب توڑ پھوڑ کی آوازیں سنیں تو بھاگتے ہوئے آئیں اور جب حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بت توڑتے دیکھا تو کہنے لگیں:”اے ابن رواحہ!یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ نے تو مجھے ہلاک و برباد کر دیا ہے۔“ مگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کوئی پرواہ نہ کی اور اسے روتے ہوئے چھوڑ کر وہاں سے چل دیئے۔
حضرت عُوَیۡمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر واپس آئے اور بیوی کو روتے ہوئے دیکھ کر رونے کا سبب پوچھا۔جب اس نے بتایا کہ آپ کے جانے کے بعد عبداللہ بن رواحہ تشریف لائے تھے اور یہ دیکھیں انہوں نے کیا کیاہے؟ تو یہ دیکھ کر آپ غضبناک ہو گئے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر بت کے پاس کوئی بھلائی ہوتی تو یقیناً اپنی حفاظت خود کر لیتا۔ پس اس خیال کا آنا تھا کہ دل کی حالت ہی بدل گئی اور فوراً بارگاہِ نبوت عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ (المستدرک ، ذكر مناقب أبي الدَرْدَاء عويمر بن زيد الأنصاري رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، باب ذکر اسلام ابی الدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، الحدیث:5500، ج 4، ص404 مفھومًا)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُناعبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کانیکی کی دعوت پیش کرنے کا کیا ہی پیارا انداز تھا۔ اس سے ہمیں یہ مدنی پھول ملتا ہےکہ جب کوئی اسلامی بھائی خود مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی رنگ میں رنگ جائے تو اسے کوشش کرنی چاہئے کہ اس کے دوست احباب