Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
7 - 70
انہوں نے اپنے بھائی  عُوَیۡمر پر انفرادی کوشش شروع کر دی، آپ کا نیکی کی دعوت پیش کرنے کا انداز بڑا حکیمانہ اور پیارا تھا۔ آخر کار حضرت  سیِّدُنا  عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انفرادی کوشش، حکمت بھرے انداز  اور مسلسل نیکی کی دعوت کی برکت سے ان کے بھائی عُوَیۡمر نے اسلام قبول کر لیا۔ 
اَللہ عَزَّ   وَجَلّ كے سوا کوئی معبود نہیں:
حضرت عُوَیۡمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لا نے کا سبب کچھ یوں پیدا ہوا کہ آپ اپنے بھائی حضرت  سیِّدُناعبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےمسلسل نیکی کی دعوت پیش کرنے سے متاثر ضرور تھے مگر ابھی تک آپ نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔ آپ نے اپنے گھر میں ایک بت رکھا ہوا تھا جس پر عام طور پر کپڑا ڈال دیتے۔ حضرت  سیِّدُنا عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بات معلوم تھی۔چنانچہ، ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس وقت سیِّدُناعُوَیۡمر کے گھر تشریف لائے جب وہ گھر میں موجود نہ تھے۔ آپ کے پوچھنے پر ان کی زوجہ سے معلوم ہوا کہ وہ گھر پر موجود نہیں۔تو آپ اس کمرے میں چلے گئے جہاں حضرت عُوَیۡمر نے بت رکھا ہوا تھا۔ آپ کے پاس اس وقت ایک کلہاڑا تھا جس سے آپ نے اس بت کو توڑنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ ایسے اشعار پڑھتے جاتے جن میں شیطان کی برائیوں کا تذكره تھا اور ساتھ ہی یہ فرماتے جاتےکہ اَللہ عَزَّ   وَجَلّ كے سوا کوئی معبود نہیں۔