Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
69 - 70
اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ، اَللہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَ أَھْلِیْ وَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔
یعنی اے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ! میں تجھ سے تیری، تیرے چاہنے والوں کی اور ہر اس عمل کی محبت کا مانگتاہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے، اے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ!اپنی محبت کو میرے نزدیک میری جان، میرے گھروالوں اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔(جامع الترمذی،کتاب الدعوات ، باب دعاء داود علیہ السلام۔الخ، الحدیث:3501،ج5، ص296) 
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!جو لوگ  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح دنیا میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں،جن کے پیش نظر ہمیشہ اپنے پروردگار عَزَّ   وَجَلَّ کی خوشی و رضا ہوتی ہے تو ان کا ربّ عَزَّ   وَجَلَّ بھی ان پر اپنی رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں کے خزانے کھول دیتا ہے۔ چنانچہ،
بے مثال جنتی نعمتیں :
حضرت  سیِّدُنا عَوْف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :”میں نے خواب میں ایک گندمی رنگ کا قُبَّہ(یعنی گنبد)دیکھاجس کے اِردگرد سبز چراگاہ میں بکریاں چَر رہی تھیں، توپوچھا:” یہ کس کاہے؟“جواب ملا:”یہ حضرت  سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا ہے۔“ راوی کہتے ہیں :”کچھ دیر بعد سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخود اس قبہ سے نکلے اور مجھ سے فرمایا:”اے عَوْف! اَللہ عَزَّ   وَجَلَّنے ہمیں یہ سب کچھ قرآنِ مجید کی تلاوت کا اجرعطا فرمایا ہے اور اگر تم اس ٹیلے پرچڑھ کردیکھو تو وہاں