انہیں پیالے والا واقعہ یاد دِلاتے ۔راوی اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہ دونوں بزرگ پیالے میں کھانا کھا رہے تھے کہ اس پیالے اور اس میں موجود کھانے نے ان کے سامنےاَللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کی ۔
(فوائد أبی علی بن أحمد بن الحسن الصواف،اول الکتاب،ص49)
(2)۔ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی پاس موجود تھے۔ اچانک حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہنڈیا سے آواز سنی، آواز بلند ہوئی وہ اس طرح تسبیح بیان کر رہی تھی جس طرح بچہاَللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کرتا ہے۔اس کے بعد وہ ہنڈیا اپنی جگہ سے ہٹی اور دوبارہ خود بخود اپنی جگہ پہنچ گئی اور اس سے کوئی چیز بھی نہ گری، حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو آواز دے کر فرمایا:”اے سلمان(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)! یہ عجیب منظر دیکھیں! ایسامنظر آپ نے دیکھا ہوگا نہ آپ کے والد نے۔“ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:”اگر آپ خاموش رہتے تواَللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس سے بڑی بڑی نشانیاں دیکھتے۔“(المصنف لابن ابی شیبۃ ،کتاب الزھد ،کلام ابی الدَرْدَاء ، الحدیث:18، ج8، ص169)
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا:
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر اپنے پروردگار لم یزل سے یہ دعا مانگا کرتے تھے: