کچھ اورلوگ آبسیں گے، اس دنیا میں تیرے لئے وہی ہے جو تو آگے بھیج دے اور جوچیزیں تویہاں چھوڑجائے گا اس کی حقدارتیری نیک اولاد ہو گی کیونکہ مرنے کے بعدتیری پیشی ایسی بارگاہ میں ہونی ہے جہاں کوئی بہانہ چلے گا نہ عذر قابل قبول ہوگا اور تم جن کے لئے دنیااکٹھی کروگے وہ تمہارے کام نہ آ سکیں گے۔ تمہارا جمع کیاہوامال تمہاری اولاد کے لئے ہے،وہ اس میں اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرکے سعادت مندہو جائے گی جس کو کمانے کی وجہ سے تم بد بخت بنے یا وہ اس مال کواَللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں خرچ کرکے بدبخت ہو جائے گی، اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! ان دونوں میں سے کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں کہ جس کی وجہ سے تم اپنی کمر پر بوجھ اٹھاؤ اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دو لہٰذا جو گزر گئے ان کے لئے اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کی امید رکھو اور جو پیچھے رہ گئے ان کے لئے اَللہ عَزَّ وَجَلَّکے رزق پر اعتمادکرو۔“وَالسَّلَام!
(تاریخ دمشق لابن عساکر،ج47، ص169،مفہومًا)
مجلس مکتوبات و تعویذاتِ عطّاریہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نیکی کی دعوت پر مشتمل ان دو مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ مكتوبات كے ذریعے نیکی کی دعوت دينا صحابہ کرام کا طریقہ ہے اور یہ صرف صحابہ کرام ہی کا طریقہ نہیں بلکہ سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم مختلف لوگوں کو نیکی کی دعوت پر مشتمل مکتوب روانہ فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ، تبلیغ قرآن و سنت کی