Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
63 - 70
مطالبہ کیاتھالیکن حساب کے خوف سے میں نے اسے ناپسند جانا حالانکہ میں ان دنوں مالدار تھا۔اے میرے بھائی! اگر ہم سے پورا پورا حساب لیا گیا تو بروزِ قیامت میرا اور تیرا مددگار کون ہوگا؟اے میرے بھائی!رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکا صحابی ہونے کی وجہ سے دھوکے میں نہ رہنا، بے شک ہم حضورپرنور، شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکے بعد ایک طویل عرصہ زندہ رہے ہیں اور اَللہ عَزَّ   وَجَلَّہی جانتا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکے بعد ہمیں کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
(حلیۃ الاولیاء، الرقم35ابو دَرْدَاء ، الحدیث:702 ، ج1، ص274)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مساجد عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں نہ کہ سونے اور کھانے پینے کے لئے۔ مسجد کو متقین کا گھر کہنے کی وجہ یہ ہےکہ متقین آدابِ مسجد کا لحاظ رکھتے ہیں اور ہر وقت عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا زیادہ تر وقت مسجد ہی میں گزرے جیسا کہ اصحابِ صفہ کا تمام وقت مسجدِ نبوی میں گزرتا اور وہ ہر وقت مسنون عبادت یعنی نماز یا ذکر و فکر اور تلاوت وغیرہ میں مصروف رہتے ۔تھک جاتے یا نیند غالب آتی تو  گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھے بٹھائے تھوڑی دیر آرام کر لیا کرتے۔ 
(المدخل لابن الحاج، ج1، ص212، مفہوماً)
حضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ایک دوست کو مکتوب لکھا جس میں حمد و ثنا کے بعدفرمایا:”اس دنیامیں تیرا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ تجھ سے پہلے بھی لوگ یہاں رہتے تھے جو اسے یونہی چھوڑ کرچلے گئے اور تیرے بعدبھی اس میں