Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
62 - 70
وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کیا تم اپنے دل کونرم کرنا چاہتے ہو؟“عرض کی:”جی ہاں ۔“ ارشاد فرمایا:”یتیم کو اپنے قریب کرو،اسکے سرپرہاتھ پھیرواوراپنے کھانے سے اسے کھلاؤکہ یہ چیزیں دل کو نرم کرتی ہیں اور حاجات کے پوراہونے کابھی ذریعہ ہیں۔“ اے میرے بھائی!اتنامال اکٹھا نہ کرو کہ جس کاشکرادانہ کرسکو،بے شک میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”قیامت کے دن ایک ایسے مالدارکو لایا جائے گاجس نے مال کے معاملے میںاَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی اطاعت و فرمانبرداری کی ہوگی، وہ اس حال میں آئے گاکہ وہ آگے اوراس کا مال اس کے پیچھے ہوگا، پل صراط پر جب بھی کوئی رکاوٹ آئے گی تو اس کا مال اسے کہے گا:'چلو !چلو! تم نے مال میں اپنا حق ادا کیا ہے۔“پھرایک ایسے مالدار کو لایا جائے گاجس نے مال کے معاملے میں اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی اطاعت نہ کی ہوگی، وہ اس حال میں آئے گاکہ اس کامال اس کے کندھوں کے درمیان ہوگا اور وہ اسے پھسلائے گا اور کہے گا:”تیری ہلاکت ہو!تونے میرے معاملے میں کیوں اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی اطاعت نہیں کی؟“وہ اسی طرح کہتا رہے گا حتی کہ ہلاکت کی دعامانگے گا۔“اے میرے بھائی!مجھے معلوم ہوا ہے کہ تونے ایک خادم خریدا ہے،میں نے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکے حبیب،حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کہ”بندہ جب تک کسی خادم سے مدد نہیں لیتا اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکے قریب ہوتا رہتا ہے اوراَللہ عَزَّ   وَجَلَّبھی اس کے قریب ہوتا ہے اور جب وہ کسی خادم سے خدمت لیتا ہے تو اس پر اس کا حساب لازم ہو جاتا ہے۔“ میری زوجہ نے مجھ سے ایک خادم رکھنے کا