رَحمتوں والے نبی کے گیت جب گاتا ہوں میں
گنبدِخَضرا کے نظاروں میں کھو جاتا ہوں میں
جاؤں تو جاؤں کہاں میں کس کا ڈھونڈوں آسرا
لاج والے لاج رکھنا تیرا کہلاتا ہوں میں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے”نیکی کی دعوت“ پر مشتمل دو مکتوب:
(1)۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ایک مکتوب روانہ فرمایا، جس میں لکھا:اے میرے بھائی! اپنی صحت و فراغت کوغنیمت جانو، اس سے پہلے کہ تم پر ایسی مصیبت نازل ہو جس کو مخلوق دور نہ کرسکے اور مصیبت زدہ کی دعا کو غنیمت سمجھو۔ اے میرے بھائی! مسجد کو (عبادت کے لئے )اپنا گھر بنالوکیونکہ میں نے رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا ہے:”مسجد ہر متقی کا گھر ہے۔“اور جو لوگ مساجد کو اپنا گھربنالیتے ہیںاَللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان سے راحت وآرام اور پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار کر اپنی رضا تک پہنچانے کا وعدہ فرمایا ہے۔اے میرے بھائی! یتیم پر رحم کرو، اسے اپنے قریب کرواوراپنے کھانے سے اسے کھلاؤکیونکہ ایک بارشہنشاہِ ابرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے دَربارِ دُر بار میں ایک شخص نے قَسَاوَتِ قلبی(دل کی سختی)کی شکایت کی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمنے