Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
60 - 70
میں متَعَدد مجالِس بنائی جاتی ہیں۔ مِنۡجُمۡلَہ مجلس رابِطہ بِالْعُلَماءِ و المَشائِخ بھی ہے جو کہ اکثر عُلَمائے کرام پر مشتِمل ہے۔ اِس مجلس کے اسلامی بھائی مشہور دینی درسگاہ جامِعہ راشِدیہ (پیرجو گوٹھ بابُ الاسلام سندھ) تشریف لے گئے ۔
بر سبیل تذکرہ جَیل خانوں میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کی بات چلی تووہاں کے شیخ الحدیث صاحِب کچھ اِس طرح فرمانے لگے:”جَیل خانوں کے مَدَنی کام کی تابناک مَدَنی کارکردگی میں خود آپ کو سُناتا ہوں، پیرجو گوٹھ کے نَواح میں ایک ڈاکو نے تباہی مچا رکھی تھی، میں اُس کو جانتا تھا، آئے دن پولیس کے ساتھ اُس کی آنکھ مچولی جاری رہتی ، کئی بار گرفتار بھی ہوا مگر اَثَر ورُسُوخ استِعمال کر کے چھوٹ گیا۔ آخِرَش کسی جُرم کی پاداش میں بابُ المدینہ کراچی کی پولیس کے ہتّھے چڑھ گیا، سزا ہوئی اور جیل میں چلا گیا ۔ سزا کاٹ لینے کے بعد رِہائی ملنے پر مجھ سے ملنے آیا۔ میں پہلی نظر میں اُس کو پہچان نہ سکا کیوں کہ میں نے اِس کو داڑھی منڈا اور سر بَرَہنہ دیکھا تھا مگر اب اِس کے چہرے پر میٹھے میٹھے آقا مَدَینے والے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبَّت کی نشانی نورانی داڑھی جگمگا رہی تھی، سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج اپنی بہاریں لُٹا رہا تھا ، پیشانی پر نَمازوں کا نور نُمایاں نظر آ رہا تھا۔ میری حیرت کا طِلِسم( طِ ۔لِسْم) توڑتے ہوئے وہ بولا، قید کے دَوران جَیل کے اندر اَلْحَمْدُ لِلہ عَزَّ   وَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مُیَسَّر آ گیا اور عاشقانِ رسول کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے میں نے گناہوں کی بیڑیاں کاٹ کر اپنے آپ کو مَدَنی محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی زلفوں کا اَسیر بنا لیا ۔“