ارشاد فرمایا:”میں اسکے عمل کو برا سمجھتا ہوں،اگر یہ اسے چھوڑ دے گا تومیرا بھائی ہے۔“
(شعب الإیمان للبیہقی،باب فی تحریم أعراض الناس، الحدیث: 6691، ج5،ص290)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نیکی کی دعوت سے بہت پیار تھا، آپ ہر مناسب موقع سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔ چنانچہ، آپ کے اس واقعے سے کتنا پیارا سبق ملتا ہے کہ گناہگار سے نہیں گناہ سے نفرت کرنا چاہئے، کیونکہ اگر گناہگار سے نفرت کریں گے تو وہ کبھی بھی آپ کی نیکی کی دعوت قبول نہیں کرے گا۔ بلکہ آپ کو دیکھ کر راستہ تبدیل کر لے گا۔ تو پھر نیکی کی دعوت کیسے عام ہو گی؟ تو پیارے اسلامی بھائیو! گناہگاروں سے نفرت کے بجائے انہیں اپنا بنانے کی کوشش کیجئے تا کہ وہ بھی مدنی ماحول کی برکت سے محروم نہ رہیں۔ چنانچہ،
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے، ”قاتل، امامت کے مصلّے پر“ صَفْحَہ 4 تا 6 پر ہے: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً قراٰن و سنّت کی تعلیم سے بے بہرہ لوگ ہی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر قتل وغارت گری، دہشت گردی، توڑپھوڑ، چوری، ڈکیتی، زناکاری، منشیات فروشی اور جوا وغیرہ جیسے گھناؤنے جرائم میں مبتلا ہو کر بالآخر جیل کی چار دیواری میں مقید ہو جاتے ہیں۔ اَلۡحَمۡدُ لِلہِ عَزَّ وَجَلَّ قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے جیل خانوں میں بھی دعوتِ اسلامی کی مجلس ”فیضانِ قرآن“ کے ذَریعے مَدَنی کام کی ترکیب ہے۔
جیل خانہ جات میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ چند سال قبل ایک قیدی جیل سے رِہائی پانے کے بعد شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ