Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
57 - 70
 سیِّدُنا اَبُو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُ
کی نیکی کی دعوت سے محبت
ایمان کی حلاوت:
حضرت  سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک بار مدینہ شریف حاضر ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:”اے اہل مدینہ! مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں تم میں ایمان کی حلاوت نہیں پا رہا۔ میری جان کی قسم! اگر جنگلی جانور بھی ایمان کا ذائقہ چکھ لے تو اس پر بھی حلاوتِ ایمان کے اثرات نظر آنے لگیں۔“
(الزہد لابن مبارک، باب فضل ذکر اللہ عزوجل،الحدیث:1547 ،ج 1،ص541)
گنہگارسے نہیں ،گناہ سے نفرت:
ایک بار حضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جسے لوگ اس کے گناہوں میں مبتلا ہونے  کی وجہ سے برا بھلا کہہ رہے تھے،تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان لوگوں سے ارشاد فرمایا:” ذرا یہ بتاؤ! اگر تم اس شخص کو کسی کنوئیں میں گرا ہوا پاتے تو کیا اسے نکالنے کی کوشش نہ کرتے؟ “لوگوں نے عرض کی”جی ہاں!ضرور کرتے۔“ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:” اپنے بھائی کو گالیاں نہ دو بلکہ اس بات پراَللہ عَزَّ   وَجَلَّکاشکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس گناہ سے عافیت بخشی ہے۔“ انہوں نے عرض کی:” کیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے برا نہیں سمجھتے؟“ ارشاد