(8) ۔۔۔تیرا دوست تجھ پر عتاب کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ تجھ سے دور رہے۔تیرے دوست سے بڑھ کرکون تیراخیرخواہ ہوگا؟ اپنے دوست کا سوال پوراکر اور اس کے معاملے میں نرمی اختیارکر اور اس کے بارے میں کسی حاسد کی بات پہ یقین نہ کر۔ ورنہ تو بھی اسی کی مثل اپنے دوست سے حسد کرنے لگ جائے گا،پھرجب کل تیری موت آئے گی تو وہ تجھ سے منہ پھیر لے گا اور تم اس شخص کی موت کے بعد کیوں روتے ہو جس سے زندگی میں ملنا بھی گوارانہیں کرتے تھے؟
(حلیۃ الاولیاء، الرقم35ابو دَرْدَاء ، الحدیث:705 ، ج1، ص276)
(9) ۔۔۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار ارشادفرمایا:”بندے کو اس بات سے خوفزدہ رہنا چاہئے کہ کہیں مسلمانوں کے دلوں میں اس کی نفرت نہ ڈال دی جائے اور اسے معلوم تک نہ ہو۔“ پھردریافت فرمایا:”جانتے ہو ایسا کیونکر ہوتاہے؟“عرض کی گئی:”نہیں معلوم۔“ تو ارشاد فرمایا:”بندہ تنہائی میں اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اَللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کے دلوں میں اس کی نفرت ڈال دیتا ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا۔“
(الزہد لابی داؤد،باب من خبر الی الدَرْدَاء ، الحدیث:220 ، ج1،ص236،مختصراً )
(10) ۔۔۔جن لوگوں کی زبانیں اَللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر میں مشغول رہتی ہیں، ان میں سے ہرشخص مسکراتاہواجنت میں داخل ہوگا۔
(الزہد للامام احمد بن حنبل،باب زہد ابی الدَرْدَاء ،الحدیث٧٢٦،ص١٦١)