نصیحت فرمائیے۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :”خوشی کی حالت میں اَللہ عَزَّ وَجَلَّکو یادرکھو گےتو وہ تمہیں تمہاری مصیبت وتنگی کے وقت یادر کھے گا اور جب کوئی دنیاوی چیز تمہیں اچھی لگے تواسے اختیار کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچ لینا۔“
(سیر اعلام النبلاء،الرقم 164ابو الدَرْدَاء ،ج4،ص22)
(2) ۔۔۔جو کھانے پینے کی نعمت کے سوا اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی دوسری نعمتوں کونہیں پہچانتا اسکاعمل تھوڑا ہوجاتاہے اور اُسے تکالیف کا سامنارہتا ہےاور جو دنیاکے پیچھے بھاگتا ہے دنیا اسکے ہاتھ نہیں آتی۔ (حلیۃ الاولیاء، الرقم 35ابی الدَرْدَاء ، الحدیث:678، ج1،ص270)
(3) ۔۔۔جب تک تم نیک لوگوں سے محبت رکھوگے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے بارے میں جب کوئی حق بات بیان کی جائے تواسے مان لیاکروکہ حق کو پہچاننے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی، باب فی مقاربۃومودۃ۔۔۔الخ، الحدیث:9063، ج6، ص503، بتغیرٍ)
(4) ۔۔۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ اَللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم پر صبر کرے، تقدیر پر راضی رہے،توکل کے معاملے میں اخلاص اپنائے اور ہر وقت اَللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانبردار رہے۔ (الزہد لابن المبارک،ما رواہ نعیم بن حماد فی نسختہ زائدا،باب فی الرضا بالقضاء، الحدیث:123،ص31)
(5) ۔۔۔اے لوگو! کیا بات ہے تم دنیا کے حریص بنتے جارہے ہو اورجس(دین)کا تمہیں